10 اشعار

عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا

Ishq kab apne maqasid ka nigehbaan na hua

عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا

«عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہوا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

عشق کب اپنے مقاصد کا نگہباں نہ ہواکون سا غم ہے جو آخر غم جاناں نہ ہوا

لاکھ چاہا مگر افسوس کہ آنسو نہ تھمےضبط غم مجھ سے بقدر غم پنہاں نہ ہوا

تیری عشرت ہے کہ گردوں کے دبائے نہ دبیمیرا غم ہے کہ ہنسی میں بھی نمایاں نہ ہوا

غم دنیا غم عقبیٰ غم ہستی غم موتکوئی غم بھی تو حریف غم جاناں نہ ہوا

ذرے ذرے سے یہ اعلان پریشانی ہےمطمئن خاک وہ ہوگا جو پریشاں نہ ہوا

جس کے دامن سے ہے وابستہ مرا ذوق حیاتوہ بھی کافر مرے معیار کا انساں نہ ہوا

میں رہا گرچہ ہر احساس پہ مصروف سجودکوئی سجدہ بھی تری شان کے شایاں نہ ہوا

برف زار زر و دولت کا ہر افسردہ ضمیرزمزموں سے مرے کب شعلہ بداماں نہ ہوا

برق ناکام مہ و مہر کواکب مایوسنہ ہوا میرے نشیمن میں چراغاں نہ ہوا

میرے تخلیق ادب میں ہے قصیدہ معدوممجھ سے احسانؔ کسی وقت یہ عصیاں نہ ہوا

— احسان دانش