11 اشعار

اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتا

Izhaar-e-sadaqat mein asar kyon nahin hota

اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتا

«اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتااب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتا

خوشبو کا یہ بکھراؤ بھی توہین چمن ہےاحساس تجھے باد سحر کیوں نہیں ہوتا

کیوں فکر سے محروم ہیں اس دور کی نسلیںپہلا سا زبانوں میں اثر کیوں نہیں ہوتا

جو بات ادھر ہے وہ ادھر کیوں نہیں جاتیجو کرب ادھر ہے وہ ادھر کیوں نہیں ہوتا

اس شہر زبوں حال میں تخریب کا احساسہونا تو ضروری ہے مگر کیوں نہیں ہوتا

فنکار اسی کشمکش وقت میں گم ہیںبازار خریدار ہنر کیوں نہیں ہوتا

اللہ کو کرتے ہیں مصیبت میں سبھی یادیہ ورد مگر شام و سحر کیوں نہیں ہوتا

خودبیں ہیں سبھی اور یہ بتانے سے ہیں معذورآئینے سے نقصان نظر کیوں نہیں ہوتا

پیشانیٔ کہسار پہ سورج کا ہے میلادوادی میں مگر شور سحر کیوں نہیں ہوتا

ہو جس کے پیمبر کا گزر عرش بریں پرامت کا ستاروں میں سفر کیوں نہیں ہوتا

حیراں ہوں کہ اقبالؔ کی تعلیم کا دانشؔاس شہر کے لوگوں پہ اثر کیوں نہیں ہوتا

— احسان دانش