10 اشعار

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا

Jabeen ki dhool jigar ki jalan chhupaye ga

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا

«جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گاشروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا

دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدناس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا

ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیںخرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا

حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیںملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا

نظر کا فرد عمل سے ہے سلسلہ درکاریقیں نہ کر یہ سیاہی کفن چھپائے گا

کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دنجنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا

ترا غبار زمیں پر اترنے والا ہےکہاں تک اب یہ بگولہ تھکن چھپائے گا

کھلے گا باد نفس سے جو رخ پہ نیل کنولاسے کہاں ترا اجلا بدن چھپائے گا

ترے کمال کے دھبے ترے عروج کے داغچھپائے گا تو کوئی اہل فن چھپائے گا

جسے ہے فیض مری خانقاہ سے دانشؔوہ کس طرح مرا رنگ سخن چھپائے گا

— احسان دانش