10 اشعار

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا

Mere mitane ki tadbeer thi hijaab na tha

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا

«مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

مرے مٹانے کی تدبیر تھی حجاب نہ تھاوگرنہ کون سے دن حسن بے نقاب نہ تھا

اگرچہ ناز کش ساغر شراب نہ تھاخمار خانے میں مجھ سا کوئی خراب نہ تھا

کھلا طلسم تمنا تو کھل گیا یہ بھیکہ اک فریب نظر تھا ترا شباب نہ تھا

خیال دوست تری جلوہ تابیوں کی قسمجو تو نہ تھا مری دنیا میں آفتاب نہ تھا

ترے فراق کی راتیں تھیں اس قدر مغمومکہ داغ خاطر محزوں تھا ماہتاب نہ تھا

برا ہو نالۂ پیہم کا کچھ دنوں پہلےخموش رات کے دل میں یہ پیچ و تاب نہ تھا

نگاہ ملتے ہی غش کھا کے گر پڑیں نظریںتھی ایک برق مشکل ترا شباب نہ تھا

ازل کے دن سے ہیں ہم مست جلوۂ ساقیہمارے سامنے کس روز آفتاب نہ تھا

کچھ اپنے ساز نفس کی نہ قدر کی تو نےکہ اس رباب سے بہتر کوئی رباب نہ تھا

دل خراب کا احسانؔ اب خدا حافظخراب تھا مگر ایسا کبھی خراب نہ تھا

— احسان دانش