12 اشعار

جلا ہے ہائے کس جان چمن کی شمع محفل سے

Jala hai haye kis jaan-e-chaman ki shama-e-mahfil se

جلا ہے ہائے کس جان چمن کی شمع محفل سے

«جلا ہے ہائے کس جان چمن کی شمع محفل سے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

جلا ہے ہائے کس جان چمن کی شمع محفل سےمہک پھولوں کی آتی ہے شرار آتش دل سے

یہ دامان حوادث سے قیامت تک نہ گل ہوگاچراغ دل مرا روشن ہے ان کی شمع محفل سے

جناب خضر ہم کو خاک رستے پر لگائیں گےکہ منزل بے خودوں کی ہے معرا قید منزل سے

ٹھہر بھی اے خیال حشر اور اک جام پینے دےسرکتا ہے ابھی ظلمت کا پردہ خانۂ دل سے

سحر نے لے کے انگڑائی طلسم ناز شب توڑافلک پر حسن کی شمعیں اٹھیں تاروں کی محفل سے

بڑھا ہے کون یہ گرداب کی خوراک ہونے کوکہ اٹھا شور ماتم یک بیک انبوہ ساحل سے

مری بالیں سے اٹھ کر رونے والو یہ بھی سوچا ہےچلا ہوں کس کی محفل میں اٹھا ہوں کس کی محفل سے

ہے اس کمبخت کو ضد سوز باطن سے پگھل جاؤںنگاہوں نے تمہاری کہہ دیا ہے کیا مرے دل سے

نہ دامن گیر دل ہو نا خدا پھر کوئی نظارہخدا کے واسطے کشتی بڑھا آغوش ساحل سے

سپرد بیخودی کر دے فرائض عقل خود بیں کےہٹا دے اس سیہ باطن کا پہرا خانۂ دل سے

ہر اک ذرہ ہے دل اے جانے والے دیکھ کر چلناہزاروں ہستیاں لپٹی پڑی ہیں خاک منزل سے

مری بے باک نظریں ان کی جانب اٹھ ہی جاتی ہیںابھی احسانؔ میں واقف نہیں آداب محفل سے

— احسان دانش