8 اشعار

کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہے

Kahan mahfil mein mujh tak bada-e-gulfam aata hai

کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہے

«کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

کہاں محفل میں مجھ تک بادۂ گلفام آتا ہےجو میرا نام آتا ہے تو خالی جام آتا ہے

نہ آؤ تم تو پھر کیوں ہچکیوں پر ہچکیاں آئیںانہیں روکو یہ کیوں پیغام پر پیغام آتا ہے

یہ ساون یہ گھٹا یہ بجلیاں یہ ٹوٹتی راتیںبھلا ایسے میں دل والوں کو کب آرام آتا ہے

ادب اے جذبۂ بیباک یہ آہ و فغاں کیسیکہ ایسی زندگی سے موت پر الزام آتا ہے

مدد اے مرگ ناکامی نقاہت کا یہ عالم ہےبڑی مشکل سے ہونٹوں تک کسی کا نام آتا ہے

خدا رکھے تجھے اے سر زمین شہر خاموشاںیہیں آ کر ہر اک بے چین کو آرام آتا ہے

معاذ اللہ مری آنکھوں کا اظہار تنگ ظرفیٹپک پڑتے ہیں آنسو جب تمہارا نام آتا ہے

زمانے میں نہیں دلدادۂ مہر و وفا کوئیتجھے دھوکا ہے اے دل کون کس کے کام آتا ہے

— احسان دانش