9 اشعار

اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے

Utha hoon ik hujoom-e-tamanna liye hue

اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے

«اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

اٹھا ہوں اک ہجوم تمنا لئے ہوئےدنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئے

مدت سے گرچہ جلوہ‌‌ گہ طور سے خموشآنکھیں ہیں اب بھی ذوق تماشا لئے ہوئے

دنیائے آرزو سے کنارہ تو کر کے دیکھدنیا کھڑی ہے دولت دنیا لئے ہوئے

روز ازل سے عشق ہے ناکام آرزودل ہے مگر ہجوم تمنا لئے ہوئے

اے کم نگاہ دیدۂ دل سے نگاہ کرہر ذرہ ہے حقیقت صحرا لئے ہوئے

ہستی کی صبح کون سی محفل کا ہے مآلآنکھیں کھلی ہیں حسرت جلوہ لئے ہوئے

دن بھر مری نظر میں ہے وہ یوسف بہارآتی ہے رات خواب زلیخا لئے ہوئے

دل پھر چلا ہے لے کے ترے آستاں کی سمتاپنی شکستگی کا سہارا لئے ہوئے

وہ دن کہاں کہ تھی مجھے جینے کی آرزوپھرتا ہوں اب تو دل کا جنازا لئے ہوئے

— احسان دانش