11 اشعار

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں

Jeene ke liye jo mar rahe hain

جینے کے لیے جو مر رہے ہیں

«جینے کے لیے جو مر رہے ہیں» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

جینے کے لیے جو مر رہے ہیںآغاز حیات کر رہے ہیں

ہے حسن کا نام مفت بدناملوگ اپنی طلب میں مر رہے ہیں

غنچوں کی طرح کھلے تھے کچھ لوگکرنوں کی طرح بکھر رہے ہیں

ہے نقش قدم پہ نقش زنجیردیوانے جدھر گزر رہے ہیں

سنتا ہوں کہ آپ کے وفادارانجام وفا سے ڈر رہے ہیں

ساحل کو بھی چھوڑتے نہیں لوگکشتی پہ بھی پاؤں دھر رہے ہیں

اب دشت میں نرم رو ہوا سےکچھ نقش قدم نکھر رہے ہیں

روحوں میں نئی سحر کے باعثذہنوں کے نشے اتر رہے ہیں

ہم جیسے تمام نام لیوادھبا ترے نام پر رہے ہیں

خوشبو سے لدی بہار میں بھیہم درد سے بہرہ ور رہے ہیں

ہر دور کے فن شناس دانشؔناکام حصول زر رہے ہیں

— احسان دانش