15 اشعار

مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھے

Mil mil ke doston ne woh di hai dagha mujhe

مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھے

«مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 45 سیکنڈ ہے۔

مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھےاب خود پہ بھی نہیں ہے گمان وفا مجھے

اف ابتدائے شوق کی معصوم جستجوہر پھول تھا چمن میں ترا نقش پا مجھے

اے کھنچنے والے دیکھ مری بے پناہیاںآتی ہے دشمنوں سے بھی بوئے وفا مجھے

دنیا تمہیں عزیز ہے میرے سوا مگرعالم ہے نا پسند تمہارے سوا مجھے

کرتی نہیں عبور تمہیں میری جستجوکیا کر دیا ہے تم نے یہ کیا ہو گیا مجھے

وضعاً بھی ہنس پڑا ہوں تو پھر دل سے مدتوںآئی کراہنے کی صدا پر صدا مجھے

پھر بات بات میں ہے لچک التفات کیکیا پھر دکھاؤ گے کوئی خواب وفا مجھے

یہ ہے فغاں کا زور تو پھر وہ چکا قفسکر دے گی میری شعلہ نوائی رہا مجھے

کوتاہیٔ نظر سے احاطہ نہ ہو سکاملنے کو یوں ملا ہے بتوں میں خدا مجھے

میری وفا پہ آپ ہی چیں بر جبیں نہیںمیں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھے

جس مدعائے شوق کی دریافت ہیں حضورمایوس کر رہا ہے وہی مدعا مجھے

اک ضیق اک عذاب اک اندوہ اک تڑپتم نے یہ دل کے نام سے کیا دے دیا مجھے

ان کو گنوا کے حال رہا ہے یہ مدتوںآیا خیال بھی تو بڑا غم ہوا مجھے

افلاس کے شباب مقدس میں بارہاآیا ہے پوچھنے مرے گھر پر خدا مجھے

احسانؔ اپنے وقت پہ موت آئے گی مگرجینے کا مشورہ نہیں دیتی فضا مجھے

— احسان دانش