10 اشعار

کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں

Kabhi kabhi jo wo ghurbat-kade mein aaye hain

کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں

«کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیں» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

کبھی کبھی جو وہ غربت کدے میں آئے ہیںمرے بہے ہوئے آنسو جبیں پہ لائے ہیں

نہ سرگزشت سفر پوچھ مختصر یہ ہےکہ اپنے نقش قدم ہم نے خود مٹائے ہیں

نظر نہ توڑ سکی آنسوؤں کی چلمن کووہ روز اگرچہ مرے آئینے میں آئے ہیں

اس ایک شمع سے اترے ہیں بام و در کے لباساس ایک لو نے بڑے پھول بن جلائے ہیں

یہ دوپہر یہ زمیں پر لپا ہوا سورجکہیں درخت نہ دیوار و در کے سائے ہیں

کلی کلی میں ہے دھرتی کے دودھ کی خوشبوتمام پھول اسی ایک ماں کے جائے ہیں

نظر خلاؤں پہ اور انتظار بے وعدہبہ ایں عمل بھی وہ آنکھوں میں جھلملائے ہیں

فسون شعر سے ہم اس مہ گریزاں کوخلاؤں سے سر کاغذ اتار لائے ہیں

رسالہ ہاتھ سے رکھتے نہ کیوں وہ شرما کرغزل پڑھی ہے تو ہم سامنے بھی آئے ہیں

چلے ہیں خیر سے ان کو پکارنے دانشؔمگر وہ یوں تو نہ آئیں گے اور نہ آئے ہیں

— احسان دانش