15 اشعار

ترا جمال ترا حسن کامگار رہے

Tera jamal tera husn kamgar rahe

ترا جمال ترا حسن کامگار رہے

«ترا جمال ترا حسن کامگار رہے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

ترا جمال ترا حسن کامگار رہےوہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہے

ہزار کثرت رعنا نے چلمنیں ڈالیںبہر حجاب تعین وہ آشکار رہے

مری نظر کا تو کیا ذکر خود بہار کے پھولفریب خوردۂ رنگینیٔ بہار رہے

کسی مقام پہ دل کو سکوں ہو کیا معنیجو بے قرار ازل ہے وہ بے قرار رہے

اسی نواح میں اہل نظر بھی ممکن ہیںکچھ اور دیر سر طور انتظار رہے

تمام پھول تھے اور ظرف دامن گلچیںجو بچ گئے وہ چراغ‌ شب بہار رہے

مری نگاہ میں ہے وہ حریم‌‌ زیبائیکنیز بن کے جہاں مریم بہار رہے

خزاں خزاں ہو تو دور بہار کیا معنیبہار ہو تو خزاں کیوں بنے بہار رہے

جہان حسن کے اسرار پا نہیں سکتاجو عشق اپنی حدوں تک ہی بے قرار رہے

مری نظر سے وہ جلوے نہ رہ سکے مستورجو زیر پردۂ پیراہن بہار رہے

چھڑا چکا ہوں میں دست مجاز سے دامنحقیقت اپنے حجابوں سے ہوشیار رہے

میں موڑتا ہوں اسی رخ سے کارواں اپناکچھ اور دیر افق پر ابھی غبار رہے

جنون شوق میں تحقیق رنگ و بو کیسیرہے چمن میں تو دیوانۂ بہار رہے

ہیں اس طرح کے ضوابط بھی بے قراری میںکہ تیرے ساتھ زمانہ بھی بے قرار رہے

وہ صرف میرے ہیں احسانؔ میں فقط ان کاہے ناگوار کسی کو تو ناگوار رہے

— احسان دانش