7 اشعار

شب خمار‌‌ حسن ساقی حیرت میخانہ تھا

Shab-e-khumar-e-husn-e-saqi hairat-e-maikhana tha

شب خمار‌‌ حسن ساقی حیرت میخانہ تھا

«شب خمار‌‌ حسن ساقی حیرت میخانہ تھا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

شب خمار‌‌ حسن ساقی حیرت میخانہ تھاآپ ہی مے آپ ہی خم آپ ہی پیمانہ تھا

کعبہ و دیر کلیسا میں عبث ڈھونڈا کئےدل کا ہر گوشہ مقام جلوۂ جانانہ تھا

رنگ لایا ہے برائے‌ دیدۂ انجام جوشمع ہر ہر ذرۂ خاک پر پروانہ تھا

خامیٔ ذوق نظر تھی ورنہ اے ناکام عشقذرے ذرے سے نمایاں جلوۂ جانانہ تھا

پھر وہی صوت طرب افزا بنے فردوس گوشجس سے اک عالم شہید نغمۂ مستانہ تھا

دید کے قابل تماشا تھا یہ ہنگام سحرشمع کا ہر سانس محو ماتم پروانہ تھا

فتنۂ مذہب بھی خود بینی کا اک انداز ہےورنہ کس کو امتیاز‌ مسجد و بتخانہ تھا

— احسان دانش