13 اشعار

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم

Karte karte imtizaj-e-Kaba-o-but-khana hum

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم

«کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہم» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کرتے کرتے امتزاج کعبہ و بت خانہ ہماس جگہ پہنچے کہ ہو کر رہ گئے دیوانہ ہم

سانس لے سکتے نہیں افسوس آزادانہ ہمجانے کب سے ہیں اسیر کعبہ و بتخانہ ہم

وہ محبت ہی نہیں جس میں نہ ہوں شکوے گلےاک کہانی تم سنائے جاؤ اک افسانہ ہم

دیر پا نکلی نہ فانوس خرد کی روشنیبڑھ گئی وحشت بالآخر ہو گئے دیوانہ ہم

ہر دو جانب احتیاط اچھی ہے جب تک ہو سکےیوں تو میں آگاہ سب تم شمع ہو پروانہ ہم

اب حقیقت کیا کہیں کس سے کہیں کیوں کر کہیںکچھ تو دیکھا ہے کہ جس سے ہو گئے دیوانہ ہم

دامن دل شبنم و گل سے پکڑ لیتا ہے آگخلقۃً ہم ہیں جواب فطرت پروانہ ہم

پاسباں مفہوم و معنی کو بیاں کرتے رہیںسننے والے سن چکے ہیں کہہ چکے افسانے ہم

آ چکا ہوگا سر طور وفا موسیٰ کو ہوشاب تجھے تکلیف دیں گے جلوۂ جانانہ ہم

جیتے جی کی انجمن ہے جیتے جی کا سوز و سازہو گئیں جس وقت بند آنکھیں نہ پھر دنیا نہ ہم

ہم جو مٹ جائیں تو فرق دیر و کعبہ بھی مٹےایک پردہ ہیں میان کعبہ و بتخانہ ہم

التجا ہی التجا باقی ہے شکوہ ہو چکےاب محبت تم سے کرتے ہیں پرستارانہ ہم

جب وہ کرتے ہیں محبت پر مسلسل گفتگوایسا کچھ محسوس ہوتا ہے کہ ہیں بیگانہ ہم

— احسان دانش