10 اشعار

یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا

Yun us pe meri arz-e-tamanna ka asar tha

یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا

«یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھاجیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا

اٹھتی تھیں دریچوں پہ ہماری بھی نگاہیںاپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزر تھا

ہم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھےآنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا

شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ہوئے رخسارآنکھوں پہ کبھی میری طرح دامن تر تھا

خوشبو سے معطر ہے ابھی تک وہ گزر گاہصدیوں سے یہاں جیسے بہاروں کا نگر تھا

ہے ان کے سراپا کی طرح خوش قد و خوش رنگوہ سرو کا پودا جو سر راہ گزر تھا

قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمنذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا

اس آدم خاکی پہ ستاروں کی نظر تھیاس خاک پہ کچھ جلوۂ‌ یزداں کا اثر تھا

میں رویا تو ہنسنے کی صدا آئی کئی یاروہ جان تمنا پس دیوار‌ نظر تھا

دانشؔ تھا اکہرا مرا پیراہن ہستیبے پردہ زمانے پہ مرا عیب و ہنر تھا

— احسان دانش