16 اشعار

مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے

Mujhe poochha hai aa kar tum ne is ikhlaq-e-kamil se

مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے

«مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 17 سیکنڈ ہے۔

مجھے پوچھا ہے آ کر تم نے اس اخلاق کامل سےکہ میں شرمندہ ہو کر رہ گیا اندازۂ دل سے

نظر کے رخ کو یا تو دل کی جانب پھیر لینے دونہیں تو سامنے آ جاؤ اٹھ کر پردۂ دل سے

امیدیں اٹھ رہی ہیں سیکڑوں امیدواروں کیمیں تنہا ہوں مگر تنہا نہیں اٹھوں گا محفل سے

امیر کارواں جس روشنی کے بل پہ بڑھتا ہےنکلتا ہے وہ تارا صبح ہوتے خاک منزل سے

انہیں دنیا اب اشک غم کہے یا خون کی بوندیںمحبت نے چراغ آنکھوں میں لا کر رکھ دئے دل سے

اب اس ننگ محبت سے کنارہ بھی تو مشکل ہےمجھے جس کی محبت کا یقیں آیا تھا مشکل سے

ابھی تو شام ہے آغاز ہے پروانہ سوزی کاکوئی اس شمع کو آگاہ کر دو صبح‌‌ محفل سے

ابھی تحقیق بہتر ہے کہ پھر شکوہ عبث ہوگاکہ میر کارواں واقف نہیں آداب منزل سے

مٹانے سے کبھی نقش محبت مٹ نہیں سکتامرا افسانہ نکلے گا تری روداد محفل سے

غنیمت ہے نظر روشن ہے دل اب تک دھڑکتا ہےمحبت میں تو یہ آسانیاں ملتی ہیں مشکل سے

افق کے آئنے میں ہو نہ ہو دھارے کے سائے میںنظر آتی ہیں طوفانوں کی سرحد جیسے ساحل سے

ترا جلوہ تو کیا تو خود بھی تفریح نظر ہوتامری آنکھوں نے اب تک بھیک مانگی ہی نہیں دل سے

ستم کی آخری منزل پہ اظہار پشیمانینکل آتے ہیں آنسو یوں تو ہر دکھتے ہوئے دل سے

میں اک ذرہ ہوں لیکن وسعت صحرا سے واقف ہوںاٹھا سکتا نہیں خود میر محفل مجھ کو محفل سے

تہیہ کر لیا تنگ آ کے گو ترک تعلق کامگر اب فکر ہے یہ خط انہیں لکھیں گے کس دل سے

مجھے احسانؔ میرے قافلے والوں نے اب سمجھاکہ یہ ذرہ ستارا بن گیا تقدیر منزل سے

— احسان دانش