13 اشعار

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر

Kuch log jo sawar hain kagaz ki naao par

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر

«کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پرتہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر

موسم ہے سرد مہر لہو ہے جماؤ پرچوپال چپ ہے بھیڑ لگی ہے الاؤ پر

سب چاندنی سے خوش ہیں کسی کو خبر نہیںپھاہا ہے ماہتاب کا گردوں کے گھاؤ پر

اب وہ کسی بساط کی فہرست میں نہیںجن منچلوں نے جان لگا دی تھی داؤ پر

سورج کے سامنے ہیں نئے دن کے مرحلےاب رات جا چکی ہے گزشتہ پڑاؤ پر

گلدان پر ہے نرم سویرے کی زرد دھوپحلقہ بنا ہے کانپتی کرنوں کا گھاؤ پر

یوں خود فریبیوں میں سفر ہو رہا ہے طےبیٹھے ہیں پل پہ اور نظر ہے بہاؤ پر

موسم سے ساز غیرت گلشن سے بے نیازحیرت ہے مجھ کو اپنے چمن کے سبھاؤ پر

کیا دور ہے کہ مرہم زنگار کی جگہاب چارہ گر شراب چھڑکتے ہیں گھاؤ پر

تاجر یہاں اگر ہیں یہی غیرت یہودپانی بکے گا خون شہیداں کے بھاؤ پر

پہلے کبھی رواج بنی تھی نہ بے حسینادم بگاڑ پر ہیں نہ خوش میں بناؤ پر

ہر رنگ سے پیام اترتے ہیں روح میںپڑتی ہے جب نگاہ دھنک کے جھکاؤ پر

دانشؔ مرے شریک سفر ہیں وہ کج مزاجساحل نے جن کو پھینک دیا ہے بہاؤ پر

— احسان دانش