14 اشعار

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو

Na siyo honth na khwabon mein sada do hum ko

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو

«نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کومصلحت کا یہ تقاضا ہے بھلا دو ہم کو

جرم سقراط سے ہٹ کر نہ سزا دو ہم کوزہر رکھا ہے تو یہ آب بقا دو ہم کو

بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیںہم اگر سوئے ہوئے ہیں تو جگا دو ہم کو

ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سببہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹا دو ہم کو

خضر مشہور ہو الیاس بنے پھرتے ہوکب سے ہم گم ہیں ہمارا تو پتا دو ہم کو

زیست ہے اس سحر و شام سے بیزار و زبوںلالہ و گل کی طرح رنگ قبا دو ہم کو

شورش عشق میں ہے حسن برابر کا شریکسوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ہم کو

جرأت لمس بھی امکان طلب میں ہے مگریہ نہ ہو اور گنہ گار بنا دو ہم کو

کیوں نہ اس شب سے نئے دور کا آغاز کریںبزم خوباں سے کوئی نغمہ سنا دو ہم کو

مقصد زیست غم عشق ہے صحرا ہو کہ شہربیٹھ جائیں گے جہاں چاہو بٹھا دو ہم کو

ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کے ساحل تو نہیںشوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو

بھیڑ بازار سماعت میں ہے نغموں کی بہتجس سے تم سامنے ابھرو وہ صدا دو ہم کو

کون دیتا ہے محبت کو پرستش کا مقامتم یہ انصاف سے سوچو تو دعا دو ہم کو

آج ماحول کو آرائش جاں سے ہے گریزکوئی دانشؔ کی غزل لا کے سنا دو ہم کو

— احسان دانش