8 اشعار

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

Tauba ki nazishon pe sitam dha ke pee gaya

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا

«توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 59 سیکنڈ ہے۔

توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا''پی''! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیا

دل ہی تو ہے اٹھائے کہاں تک غم و الممیں روز کے ملال سے اکتا کے پی گیا

تھیں لاکھ گرچہ محشر و مرقد کی الجھنیںگتھی کو ضبط شوق کی سلجھا کے پی گیا

مے خانۂ بہار میں مدت کا تشنہ لبساقی خطا معاف! خطا کھا کے پی گیا

نیت نہیں خراب نہ عادی ہوں اے ندیم!''آلام روزگار سے تنگ آ کے پی گیا''!

ساقی کے حسن دیدۂ میگوں کے سامنےمیں جلوۂ بہشت کو ٹھکرا کے پی گیا

اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیںلہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا

دل کچھ ثبوت حفظ شریعت نہ دے سکاساقی کے لطف خاص پہ اترا کے پی گیا

— احسان دانش