13 اشعار

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

Wafa ka ahd tha dil ko sambhalne ke liye

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے

«وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئے» احسان دانش کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لئےوہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لئے

بندھا ہوا ہے بہاروں کا اب وہیں تانتاجہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کے لئے

کوئی نسیم کا نغمہ کوئی شمیم کا راگفضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کے لئے

خدا نہ کردہ زمیں پاؤں سے اگر کھسکیبڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کے لئے

اتر پڑے ہیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوسسمندروں سے جزیرے نکالنے کے لئے

ترے سلیقۂ ترتیب نو کا کیا کہناہمیں تھے قریۂ دل سے نکالنے کے لئے

کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کودلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لئے

یہ شعبدے ہی سہی کچھ فسوں گردوں کو بلاؤنئی فضا میں ستارے اچھالنے کے لئے

ہے صرف ہم کو ترے خال و خد کا اندازہیہ آئنہ تو ہیں حیرت میں ڈالنے کے لئے

نہ جانے کتنی مسافت سے آئے گا سورجنگار شب کا جنازہ نکالنے کے لئے

میں پیش رو ہوں اسی خاک سے اگیں گے چراغنگاہ و دل کے افق کو اجالنے کے لئے

فصیل شب سے کوئی ہاتھ بڑھنے والا ہےفضا کی جیب سے سورج نکالنے کے لئے

کنویں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں اے دانشؔکمند تھی جو مناروں پہ ڈالنے کے لئے

— احسان دانش