5 اشعار

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا

Woh Buton Ne Dale Hain Waswase Ke Dilon Se Khauf-e-Khuda Gaya

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا

«وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیاوہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا

جو نفس تھا خار گلو بنا جو اٹھے تھے ہاتھ لہو ہوئےوہ نشاط آہ سحر گئی وہ وقار دست دعا گیا

نہ وہ رنگ فصل بہار کا نہ روش وہ ابر بہار کیجس ادا سے یار تھے آشنا وہ مزاج باد صبا گیا

جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئیسر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و صفا گیا

ابھی بادبان کو تہ رکھو ابھی مضطرب ہے رخ ہواکسی راستے میں ہے منتظر وہ سکوں جو آ کے چلا گیا

— فیض احمد فیض