5 اشعار

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں

Wafa-e-Wada Nahin Wada-e-Digar Bhi Nahin

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں

«وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیںوہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں

برس رہی ہے حریم ہوس میں دولت حسنگدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں

نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوںاک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں

نگاہ شوق سر بزم بے حجاب نہ ہووہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر بھی نہیں

یہ عہد ترک محبت ہے کس لیے آخرسکون قلب ادھر بھی نہیں ادھر بھی نہیں

— فیض احمد فیض