13 اشعار

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

Zulmat ko ziya sarsar ko saba bande ko Khuda kya likhna

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

«ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)» میں 25 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھناپتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا

اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میںاک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں

اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

یہ اہل حشم یہ دارا و جم سب نقش بر آب ہیں اے ہم دممٹ جائیں گے سب پروردۂ شب اے اہل وفا رہ جائیں گے ہم

ہو جاں کا زیاں پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری کی ہم نے ہی انہی کی غم خواریہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گے درباری

ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

حق بات پہ کوڑے اور زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاںانساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں خونخوار درندے ہیں رقصاں

اس ظلم و ستم کو لطف و کرم اس دکھ کو دوا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ہر شام یہاں شام ویراں آسیب زدہ رستے گلیاںجس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاں

صحرا کو چمن بن کر گلشن بادل کو ردا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

اے میرے وطن کے فن کارو ظلمت پہ نہ اپنا فن وارویہ محل سراؤں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یارو

ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھناظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

— فیض احمد فیض

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں