5 اشعار

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا

Yeh Kis Khalish Ne Phir Is Dil Mein Aashiyana Kiya

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا

«یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیاپھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

غم جہاں ہو رخ یار ہو کہ دست عدوسلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھیسہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا

خوشا کہ آج ہر اک مدعی کے لب پر ہےوہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا

وہ حیلہ گر جو وفا جو بھی ہے جفاخو بھیکیا بھی فیضؔ تو کس بت سے دوستانہ کیا

— فیض احمد فیض