پتھر کی زبان
کلام: فہمیدہ ریاض
اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھایہی بلندی ہے وصل تیرا
یہی ہے پتھر مری وفا کااجاڑ چٹیل اداس ویراں
یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض
مہمان شاعر: فہمیدہ ریاض
اسی اکیلے پہاڑ پر تو مجھے ملا تھایہی بلندی ہے وصل تیرا
یہی ہے پتھر مری وفا کااجاڑ چٹیل اداس ویراں
جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہےیا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے
جب سر میں نہیں عشق تو چہرے پہ چمک ہےیہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے