21 اشعار

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

Aankhon Mein Jo Baat Ho Gayi Hai

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے

«آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 56 سیکنڈ ہے۔

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہےاک شرح حیات ہو گئی ہے

جب دل کی وفات ہو گئی ہےہر چیز کی رات ہو گئی ہے

غم سے چھٹ کر یہ غم ہے مجھ کوکیوں غم سے نجات ہو گئی ہے

مدت سے خبر ملی نہ دل کیشاید کوئی بات ہو گئی ہے

جس شے پہ نظر پڑی ہے تیریتصویر حیات ہو گئی ہے

اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبحان زلفوں میں رات ہو گئی ہے

دل میں تجھ سے تھی جو شکایتاب غم کے نکات ہو گئی ہے

اقرار گناہ عشق سن لومجھ سے اک بات ہو گئی ہے

جو چیز بھی مجھ کو ہاتھ آئیتیری سوغات ہو گئی ہے

کیا جانیے موت پہلے کیا تھیاب میری حیات ہو گئی ہے

گھٹتے گھٹتے تری عنایتمیری اوقات ہو گئی ہے

اس چشم سیہ کی یاد یکسرشام ظلمات ہو گئی ہے

اس دور میں زندگی بشر کیبیمار کی رات ہو گئی ہے

جیتی ہوئی بازیٔ محبتکھیلا ہوں تو مات ہو گئی ہے

مٹنے لگیں زندگی کی قدریںجب غم سے نجات ہو گئی ہے

وہ چاہیں تو وقت بھی بدل جائےجب آئے ہیں رات ہو گئی ہے

دنیا ہے کتنی بے ٹھکانہعاشق کی برات ہو گئی ہے

پہلے وہ نگاہ اک کرن تھیاب برق صفات ہو گئی ہے

جس چیز کو چھو دیا ہے تو نےاک برگ نبات ہو گئی ہے

اکا دکا صدائے زنجیرزنداں میں رات ہو گئی ہے

ایک ایک صفت فراقؔ اس کیدیکھا ہے تو ذات ہو گئی ہے

— فراق گورکھپوری