10 اشعار

اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں

Ab Aksar Chup Chup Se Rahein Hain Yunhi Kabhoo Lab Kholein Hain

اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں

«اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

اب اکثر چپ چپ سے رہیں ہیں یونہی کبھو لب کھولیں ہیںپہلے فراقؔ کو دیکھا ہوتا اب تو بہت کم بولیں ہیں

دن میں ہم کو دیکھنے والو اپنے اپنے ہیں اوقاتجاؤ نہ تم ان خشک آنکھوں پر ہم راتوں کو رو لیں ہیں

فطرت میری عشق و محبت قسمت میری تنہائیکہنے کی نوبت ہی نہ آئی ہم بھی کسو کے ہو لیں ہیں

خنک سیہ مہکے ہوئے سائے پھیل جائیں ہیں جل تھل پرکن جتنوں سے میری غزلیں رات کا جوڑا کھولیں ہیں

باغ میں وہ خواب آور عالم موج صبا کے اشاروں پرڈالی ڈالی نورس پتے سہج سہج جب ڈولیں ہیں

اف وہ لبوں پر موج تبسم جیسے کروٹیں لیں کوندےہائے وہ عالم جنبش مژگاں جب فتنے پر تولیں ہیں

نقش و نگار غزل میں جو تم یہ شادابی پاؤ ہوہم اشکوں میں کائنات کے نوک قلم کو ڈبو لیں ہیں

ان راتوں کو حریم ناز کا اک عالم ہوئے ہے ندیمخلوت میں وہ نرم انگلیاں بند قبا جب کھولیں ہیں

غم کا فسانہ سننے والو آخر شب آرام کروکل یہ کہانی پھر چھیڑیں گے ہم بھی ذرا اب سو لیں ہیں

ہم لوگ اب تو اجنبی سے ہیں کچھ تو بتاؤ حال فراقؔاب تو تمہیں کو پیار کریں ہیں اب تو تمہیں سے بولیں ہیں

— فراق گورکھپوری