13 اشعار

اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے

Ab Daur-e-Aasman Hai Na Daur-e-Hayat Hai

اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے

«اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہےاے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے

ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہےحیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے

جینا جو آ گیا تو اجل بھی حیات ہےاور یوں تو عمر خضر بھی کیا بے ثبات ہے

کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودیخورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے

ہستی کو جس نے زلزلہ ساماں بنا دیاوہ دل قرار پائے مقدر کی بات ہے

یہ موشگافیاں ہیں گراں طبع عشق پرکس کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے

توڑا ہے لا مکاں کی حدوں کو بھی عشق نےزندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے

گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھجن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے

گم ہو کے ہر جگہ ہیں زخود رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے

ہستی بجز فنائے مسلسل کے کچھ نہیںپھر کس لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے

اس جان دوستی کا خلوص نہاں نہ پوچھجس کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے

یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیبتم دل دکھاؤ وقت مصیبت تو بات ہے

عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہو یا وصالبس فرصت حیات فراقؔ ایک رات ہے

— فراق گورکھپوری