24 اشعار

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

Apne Gham Ka Mujhe Kahan Gham Hai

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

«اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہےاے کہ تیری خوشی مقدم ہے

آگ میں جو پڑا وہ آگ ہواحسن سوز نہاں مجسم ہے

اس کے شیطان کو کہاں توفیقعشق کرنا گناہ آدم ہے

دل کے دھڑکوں میں زور ضرب کلیمکس قدر اس حباب میں دم ہے

ہے وہی عشق زندہ و جاویدجسے آب حیات بھی سم ہے

اس میں ٹھہراؤ یا سکون کہاںزندگی انقلاب پیہم ہے

اک تڑپ موج تہ نشیں کی طرحزندگی کی بنائے محکم ہے

رہتی دنیا میں عشق کی دنیانئے عنوان سے منظم ہے

اٹھنے والی ہے بزم ماضی کیروشنی کم ہے زندگی کم ہے

یہ بھی نظم حیات ہے کوئیزندگی زندگی کا ماتم ہے

اک معمہ ہے زندگی اے دوستیہ بھی تیری ادائے‌ مبہم ہے

اے محبت تو اک عذاب سہیزندگی بے ترے جہنم ہے

اک تلاطم سا رنگ و نکہت کاپیکر ناز میں دما دم ہے

پھرنے کو ہے رسیلی نیم نگاہآہوئے ناز مائل رم ہے

روپ کے جوت زیر پیراہنگلستاں پر ردائے شبنم ہے

میرے سینے سے لگ کے سو جاؤپلکیں بھاری ہیں رات بھی کم ہے

آہ یہ مہربانیاں تیریشادمانی کی آنکھ پر نم ہے

نرم و دوشیزہ کس قدر ہے نگاہہر نظر داستان مریم ہے

مہر و مہ شعلہ ہائے ساز جمالجس کی جھنکار اتنی مدھم ہے

جیسے اچھلے جنوں کی پہلی شاماس ادا سے وہ زلف برہم ہے

یوں بھی دل میں نہیں وہ پہلی امنگاور تیری نگاہ بھی کم ہے

اور کیوں چھیڑتی ہے گردش چرخوہ نظر پھر گئی یہ کیا کم ہے

روکش صد حریم دل ہے فضاوہ جہاں ہیں عجیب عالم ہے

دئے جاتی ہے لو صدائے فراقؔہاں وہی سوز و ساز کم کم ہے

— فراق گورکھپوری