9 اشعار

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی

Bahesen Chhidi Hui Hain Hayat O Mamat Ki

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی

«بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کیسو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی

ساز نوائے درد حجابات دہر میںکتنی دکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی

رکھ لی جنہوں نے کشمکش زندگی کی لاجبے دردیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی

یوں فرط بے خودی سے محبت میں جان دےتجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی

ہے عشق اس تبسم جاں بخش کا شہیدرنگینیاں لئے ہے جو صبح حیات کی

چھیڑا ہے درد عشق نے تار رگ عدمصورت پکڑ چلی ہیں نوائیں حیات کی

شام ابد کو جلوۂ صبح بہار دےروداد چھیڑ زندگیٔ بے ثبات کی

اس بزم بے خودی میں وجود عدم کہاںچلتی نہیں ہے سانس حیات و ممات کی

سو درد اک تبسم پنہاں میں بند ہیںتصویر ہوں فراقؔ نشاط حیات کی

— فراق گورکھپوری