16 اشعار

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

Bahut Pehle Se Un Qadmon Ki Aahat Jaan Lete Hain

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

«بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیںتجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیںنگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانیاسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہناتری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میںہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتااسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

حیات عشق کا اک اک نفس جام شہادت ہےوہ جان ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کیمری باتیں بعنوان دگر وہ مان لیتے ہیں

تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیتکہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

اب اس کو کفر مانیں یا بلندیٔ نظر جانیںخدائے دو جہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کاعبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبار الفت میںہم اپنے سر ترا اے دوست ہر احسان لیتے ہیں

ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگندھ کھاتی ہےتو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

رفیق زندگی تھی اب انیس وقت آخر ہےترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

زمانہ واردات قلب سننے کو ترستا ہےاسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافرکبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں

— فراق گورکھپوری