19 اشعار

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں

Bastiyan Dhundh Rahi Hain Unhein Veeranon Mein

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں

«بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

بستیاں ڈھونڈھ رہی ہیں انہیں ویرانوں میںوحشتیں بڑھ گئیں حد سے ترے دیوانوں میں

نگۂ ناز نہ دیوانوں نہ فرزانوں میںجان کار ایک وہی ہے مگر انجانوں میں

بزم مے بے خود و بے تاب نہ کیوں ہو ساقیموج بادہ ہے کہ درد اٹھتا ہے پیمانوں میں

میں تو میں چونک اٹھی ہے یہ فضائے خاموشیہ صدا کب کی سنی آتی ہے پھر کانوں میں

سیر کر اجڑے دلوں کی جو طبیعت ہے اداسجی بہل جاتے ہیں اکثر انہیں ویرانوں میں

وسعتیں بھی ہیں نہاں تنگئ دل میں غافلجی بہل جاتے ہیں اکثر انہیں میدانوں میں

جان ایمان جنوں سلسلہ جنبان جنوںکچھ کشش ہائے نہاں جذب ہیں ویرانوں میں

خندۂ صبح ازل تیرگیٔ شام ابددونوں عالم ہیں چھلکتے ہوئے پیمانوں میں

دیکھ جب عالم ہو کو تو نیا عالم ہےبستیاں بھی نظر آنے لگیں ویرانوں میں

جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کر اٹھےگرمیاں ہیں کچھ ابھی سوختہ سامانوں میں

وحشتیں بھی نظر آتی ہیں سر پردۂ نازدامنوں میں ہے یہ عالم نہ گریبانوں میں

ایک رنگینیٔ ظاہر ہے گلستاں میں اگرایک شادابیٔ پنہاں ہے بیابانوں میں

جوہر غنچہ و گل میں ہے اک انداز جنوںکچھ بیاباں نظر آئے ہیں گریبانوں میں

اب وہ رنگ چمن و خندۂ گل بھی نہ رہےاب وہ آثار جنوں بھی نہیں دیوانوں میں

اب وہ ساقی کی بھی آنکھیں نہ رہیں رندوں میںاب وہ ساغر بھی چھلکتے نہیں مے خانوں میں

اب وہ اک سوز نہانی بھی دلوں میں نہ رہااب وہ جلوے بھی نہیں عشق کے کاشانوں میں

اب نہ وہ رات جب امیدیں بھی کچھ تھیں تجھ سےاب نہ وہ بات غم ہجر کے افسانوں میں

اب ترا کام ہے بس اہل وفا کا پانااب ترا نام ہے بس عشق کے غم خانوں میں

تا بہ کے وعدۂ موہوم کی تفصیل فراقؔشب فرقت کہیں کٹتی ہے ان افسانوں میں

— فراق گورکھپوری