10 اشعار

بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو

Be Thikane Hai Dil Ghamgeen Thikane Ki Kaho

بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو

«بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہو» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

بے ٹھکانے ہے دل غمگیں ٹھکانے کی کہوشام ہجراں دوستو کچھ اس کے آنے کی کہو

ہاں نہ پوچھ اک گرفتار قفس کی زندگیہم صفیران چمن کچھ آشیانے کی کہو

اڑ گیا ہے منزل دشوار میں غم کا سمندگیسوئے پر پیچ و خم کے تازیانے کی کہو

بات بنتی اور باتوں سے نظر آتی نہیںاس نگاہ ناز کی باتیں بنانے کی کہو

داستاں وہ تھی جسے دل بجھتے بجھتے کہہ گیاشمع بزم زندگی کے جھلملانے کی کہو

کچھ دل مرحوم کی باتیں کرو اے اہل علمجس سے ویرانے تھے آباد اس دوانے کی کہو

داستان زندگی بھی کس قدر دلچسپ ہےجو ازل سے چھڑ گیا ہے اس فسانے کی کہو

یہ فسون نیم شب یہ خواب‌‌ ساماں خامشیسامری فن آنکھ کے جادو جگانے کی کہو

کوئی کیا کھائے گا یوں سچی قسم جھوٹی قسماس نگاہ ناز کی سوگندھ کھانے کی کہو

شام ہی سے گوش بر آواز ہے بزم سخنکچھ فراقؔ اپنی سناؤ کچھ زمانے کی کہو

— فراق گورکھپوری