7 اشعار

چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں

Chhalak Ke Kam Na Ho Aisi Koi Sharab Nahin

چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں

«چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

چھلک کے کم نہ ہو ایسی کوئی شراب نہیںنگاہ نرگس رعنا ترا جواب نہیں

زمین جاگ رہی ہے کہ انقلاب ہے کلوہ رات ہے کوئی ذرہ بھی محو خواب نہیں

حیات درد ہوئی جا رہی ہے کیا ہوگااب اس نظر کی دعائیں بھی مستجاب نہیں

زمین اس کی فلک اس کا کائنات اس کیکچھ ایسا عشق ترا خانماں خراب نہیں

ابھی کچھ اور ہو انسان کا لہو پانیابھی حیات کے چہرے پر آب و تاب نہیں

جہاں کے باب میں تر دامنوں کا قول یہ ہےیہ موج مارتا دریا کوئی سراب نہیں

دکھا تو دیتی ہے بہتر حیات کے سپنےخراب ہو کے بھی یہ زندگی خراب نہیں

— فراق گورکھپوری