8 اشعار

چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے

Chhed Ae Dil Yeh Kisi Shokh Ke Rukhsaron Se

چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے

«چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

چھیڑ اے دل یہ کسی شوخ کے رخساروں سےکھیلنا آہ دہکتے ہوئے انگاروں سے

ہم شب ہجر میں جب سوتی ہے ساری دنیاذکر کرتے ہیں ترا چھٹکے ہوئے تاروں سے

اشک بھر لائے کسی نے جو ترا نام لیااور کیا ہجر میں ہوتا ترے بیماروں سے

چھیڑ نغمہ کوئی گو دل کی شکستہ ہیں رگیںہم نکالیں گے صدا ٹوٹے ہوئے تاروں سے

ہم کو تیری ہے ضرورت نہ اسے بھول اے دوستتیرے اقراروں سے مطلب ہے نہ انکاروں سے

ہم ہیں وہ بیکس و بے یار کہ بیٹھے بیٹھےاپنا دکھ درد کہا کرتے ہیں دیواروں سے

اہل دنیا سے یہ کہتے ہیں مرے نالۂ دلہم صدا دیں گے غم ہجر کے میناروں سے

عشق ہمدردیٔ عالم کا روادار نہیںہو گئی بھول فراقؔ آپ کے غم خواروں سے

— فراق گورکھپوری