10 اشعار

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

Daur-e-Aaghaz-e-Jafa Dil Ka Sahara Nikla

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا

«دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

دور آغاز جفا دل کا سہارا نکلاحوصلہ کچھ نہ ہمارا نہ تمہارا نکلا

تیرا نام آتے ہی سکتے کا تھا عالم مجھ پرجانے کس طرح یہ مذکور دوبارا نکلا

ہوش جاتا ہے جگر جاتا ہے دل جاتا ہےپردے ہی پردے میں کیا تیرا اشارا نکلا

ہے ترے کشف و کرامات کی دنیا قائلتجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا

کتنے سفاک سر قتل گہہ عالم تھےلاکھوں میں بس وہی اللہ کا پیارا نکلا

عبرت انگیز ہے کیا اس کی جواں مرگی بھیہائے وہ دل جو ہمارا نہ تمہارا نکلا

عشق کی لو سے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیںرشک خورشید قیامت یہ شرارا نکلا

سر بہ سر بے سر و ساماں جسے سمجھے تھے وہ دلرشک جمشید و کے و خسرو و دارا نکلا

رونے والے ہوئے چپ ہجر کی دنیا بدلیشمع بے نور ہوئی صبح کا تارا نکلا

انگلیاں اٹھیں فراقؔ وطن آوارہ پرآج جس سمت سے وہ درد کا مارا نکلا

— فراق گورکھپوری