20 اشعار

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا

Dete Hain Jaam-e-Shahadat Mujhe Ma'aloom Na Tha

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا

«دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

دیتے ہیں جام شہادت مجھے معلوم نہ تھاہے یہ آئین محبت مجھے معلوم نہ تھا

مطلب چشم مروت مجھے معلوم نہ تھاتجھ کو مجھ سے تھی شکایت مجھے معلوم نہ تھا

چشم خاموش کی بابت مجھے معلوم نہ تھایہ بھی ہے حرف و حکایت مجھے معلوم نہ تھا

عشق بس میں ہے مشیت کے عقیدہ تھا مرااس کے بس میں ہے مشیت مجھے معلوم نہ تھا

ہفت خواں جس نے کئے طے سر راہ تسلیمٹوٹ جاتی ہے وہ ہمت مجھے معلوم نہ تھا

آج ہر قطرۂ مے بن گیا اک چنگاریتھی یہ ساقی کی شرارت مجھے معلوم نہ تھا

نگہ مست نے تلوار اٹھا لی سر بزمیوں بدل جاتی ہے نیت مجھے معلوم نہ تھا

غم ہستی سے جو بیزار رہا میں اک عمرتجھ سے بھی تھی اسے نسبت مجھے معلوم نہ تھا

عشق بھی اہل طریقت میں ہے ایسا تھا خیالعشق ہے پیر طریقت مجھے معلوم نہ تھا

پوچھ مت شرح کرم ہائے عزیزاں ہمدمان میں اتنی تھی شرافت مجھے معلوم نہ تھا

جب سے دیکھا ہے تجھے مجھ سے ہے میری ان بنحسن کا رنگ سیاست مجھے معلوم نہ تھا

شکل انسان کی ہو چال بھی انسان کی ہویوں بھی آتی ہے قیامت مجھے معلوم نہ تھا

سر معمورۂ عالم یہ دل خانہ خرابمٹ گیا تیری بدولت مجھے معلوم نہ تھا

پردۂ عرض وفا میں بھی رہا ہوں کرتاتجھ سے میں اپنی ہی غیبت مجھے معلوم نہ تھا

نقد جاں کیا ہے زمانے میں محبت ہمدمنہیں ملتی کسی قیمت مجھے معلوم نہ تھا

ہو گیا آج رفیقوں سے گلے مل کے جدااپنا خود عشق صداقت مجھے معلوم نہ تھا

درد دل کیا ہے کھلا آج ترے لڑنے پرتجھ سے اتنی تھی محبت مجھے معلوم نہ تھا

دم نکل جائے مگر دل نہ لگائے کوئیعشق کی یہ تھی وصیت مجھے معلوم نہ تھا

حسن والوں کو بہت سہل سمجھ رکھا تھاتجھ پہ آئے گی طبیعت مجھے معلوم نہ تھا

کتنی خلاق ہے یہ نیستئ عشق فراقؔاس سے ہستی ہے عبارت مجھے معلوم نہ تھا

— فراق گورکھپوری