19 اشعار

اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

Ek roz hue the kuchh isharaat-e-khafi se

اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے

«اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

اک روز ہوئے تھے کچھ اشارات خفی سےعاشق ہیں ہم اس نرگس رعنا کے جبھی سے

کرنے کو ہیں دور آج تو تو یہ روگ ہی جی سےاب رکھیں گے ہم پیار نہ تم سے نہ کسی سے

احباب سے رکھتا ہوں کچھ امید شرافترہتے ہیں خفا مجھ سے بہت لوگ اسی سے

کہتا ہوں اسے میں تو خصوصیت پنہاںکچھ تم کو شکایت ہے کسی سے تو مجھی سے

اشعار نہیں ہیں یہ مری روح کی ہے پیاسجاری ہوئے سرچشمے مری تشنہ لبی سے

آنسو کو مرے کھیل تماشا نہ سمجھناکٹ جاتا ہے پتھر اسی ہیرے کی کنی سے

یاد لب جاناں ہے چراغ دل رنجورروشن ہے یہ گھر آج اسی لعل یمنی سے

افلاک کی محراب ہے آئی ہوئی انگڑائیبے کیف کچھ آفاق کی اعضا شکنی سے

کچھ زیر لب الفاظ کھنکتے ہیں فضا میںگونجی ہوئی ہے بزم تری کم سخنی سے

آج انجمن عشق نہیں انجمن عشقکس درجہ کمی بزم میں ہے تیری کمی سے

اس وادئ ویراں میں ہے سر چشمۂ دل بھیہستی مری سیراب ہے آنکھوں کی نمی سے

خود مجھ کو بھی تا دیر خبر ہو نہیں پائیآج آئی تری یاد اس آہستہ روی سے

وہ ڈھونڈھنے نکلی ہے تری نکہت گیسواک روز ملا تھا میں نسیم سحری سے

سب کچھ وہ دلا دے مجھے سب کچھ وہ بنا دےاے دوست نہیں دور تری کم نگہی سے

میعاد دوام و ابد اک نیند ہے اس کیہم منتہیٔ جلوۂ جاناں ہیں ابھی سے

اک دل کے سوا پاس ہمارے نہیں کچھ بھیجو کام ہو لے لیتے ہیں ہم لوگ اسی سے

معلوم ہوا اور ہے اک عالم اسرارآئینۂ ہستی کی پریشاں نظری سے

اس سے تو کہیں بیٹھ رہے توڑ کے اب پاؤںمل جائے نجات عشق کو اس در بدری سے

رہتا ہوں فراقؔ اس لئے وارفتہ کہ دنیاکچھ ہوش میں آ جائے مری بے خبری سے

— فراق گورکھپوری