18 اشعار

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا

Hijr-o-wisaal-e-yaar ka parda utha diya

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا

«ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 34 سیکنڈ ہے۔

ہجر و وصال یار کا پردہ اٹھا دیاخود بڑھ کے عشق نے مجھے میرا پتا دیا

گرد و غبار ہستئ فانی اڑا دیااے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا

وہ سامنے ہے اور نظر سے چھپا دیااے عشق‌ بے حجاب مجھے کیا دکھا دیا

وہ شان خامشی کہ بہاریں ہیں منتظروہ رنگ گفتگو کہ گلستاں بنا دیا

دم لے رہی تھیں حسن کی جب سحر‌ کاریاںان وقفہ‌ ہائے کفر کو ایماں بنا دیا

معلوم کچھ مجھی کو ہیں ان کی روانیاںجن قطرہ ہائے اشک کو دریا بنا دیا

اک برق بے قرار تھی تمکین حسن بھیجس وقت عشق کو غم صبر آزما دیا

ساقی مجھے بھی یاد ہیں وہ تشنہ کامیاںجن کو حریف ساغر و مینا بنا دیا

معلوم ہے حقیقت غم ہائے روزگاردنیا کو تیرے درد نے دنیا بنا دیا

اے شوخئ نگاہ کرم مدتوں کے بعدخواب گران غم سے مجھے کیوں جگا دیا

کچھ شورشیں تغافل پنہاں میں تھیں جنہیںہنگامہ زار حشر تمنا بنا دیا

بڑھتا ہی جا رہا ہے جمال نظر فریبحسن نظر کو حسن خود آرا بنا دیا

پھر دیکھنا نگاہ لڑی کس سے عشق کیگر حسن نے حجاب تغافل اٹھا دیا

جب خون ہو چکا دل ہستی‌ٔ اعتبارکچھ درد بچ رہے جنہیں انساں بنا دیا

گم کروۂ‌ وفور‌ غم انتظار ہوںتو کیا چھپا کہ مجھ کو مجھی سے چھپا دیا

رات اب حریف صبح قیامت ہی کیوں نہ ہوجو کچھ بھی ہو اس آنکھ کو اب تو جگا دیا

اب میں ہوں اور لطف و کرم کے تکلفاتیہ کیوں حجاب رنجش بے جا بنا دیا

تھی یوں تو شام ہجر مگر پچھلی رات کووہ درد اٹھا فراقؔ کہ میں مسکرا دیا

— فراق گورکھپوری