31 اشعار

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

Jahan ghuncha-e-dil ka faqat chatakna tha

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا

«جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 4 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

جہان غنچۂ دل کا فقط چٹکنا تھااسی کی بوئے پریشاں وجود دنیا تھا

یہ کہہ کے کل کوئی بے اختیار روتا تھاوہ اک نگاہ سہی کیوں کسی کو دیکھا تھا

طنابیں کوچۂ قاتل کی کھنچتی جاتی تھیںشہید تیغ ادا میں بھی زور کتنا تھا

بس اک جھلک نظر آئی اڑے کلیم کے ہوشبس اک نگاہ ہوئی خاک طور سینا تھا

ہر اک کے ہاتھ فقط غفلتیں تھیں ہوش نماکہ اپنے آپ سے بیگانہ وار جینا تھا

یہی ہوا کہ فریب امید و یاس مٹےوہ پا گئے ترے ہاتھوں ہمیں جو پانا تھا

چمن میں غنچۂ گل کھلکھلا کے مرجھائےیہی وہ تھے جنہیں ہنس ہنس کے جان دینا تھا

نگاہ مہر میں جس کی ہیں صد پیام فنااسی کا عالم ایجاد و ناز بے جا تھا

جہاں تو جلوہ نما تھا لرزتی تھی دنیاترے جمال سے کیسا جلال پیدا تھا

حیات و مرگ کے کچھ راز کھل گئے ہوں گےفسانۂ شب غم ورنہ دوستو کیا تھا

شب عدم کا فسانہ گداز شمع حیاتسوائے کیف فنا میرا ماجرا کیا تھا

کچھ ایسی بات نہ تھی تیرا دور ہو جانایہ اور بات کہ رہ رہ کے درد اٹھتا تھا

نہ پوچھ سود و زیاں کاروبار الفت کےوگرنہ یوں تو نہ پانا تھا کچھ نہ کھوتا تھا

لگاوٹیں وہ ترے حسن بے نیاز کی آہمیں تیری بزم سے جب ناامید اٹھا تھا

تجھے ہم اے دل درد آشنا کہاں ڈھونڈیںہم اپنے ہوش میں کب تھے کوئی جب اٹھا تھا

عدم کا راز صدائے شکست ساز حیاتحجاب زیست بھی کتنا لطیف پردا تھا

یہ اضطراب و سکوں بھی تھی اک فریب حیاتکہ اپنے حال سے بیگانہ وار جینا تھا

کہاں پہ چوک ہوئی تیرے بے قراروں سےزمانہ دوسری کروٹ بدلنے والا تھا

یہ کوئی یاد ہے یہ بھی ہے کوئی محویتترے خیال میں تجھ کو بھی بھول جانا تھا

کہاں کی چوٹ ابھر آئی حسن تاباں میںدم نظارہ وہ رخ درد سا چمکتا تھا

نہ پوچھ رمز و کنایات چشم ساقی کےبس ایک حشر خموش انجمن میں برپا تھا

چمن چمن تھی گل داغ عشق سے ہستیاسی کی نکہت برباد کا زمانہ تھا

وہ تھا مرا دل خوں گشتہ جس کے مٹنے سےبہار باغ جناں تھی وجود دنیا تھا

قسم ہے بادہ کشو چشم مست ساقی کیبتاؤ ہاتھ سے کیا جام مے سنبھلتا تھا

وصال اس سے میں چاہوں کہاں یہ دل میرایہ رو رہا ہوں کہ کیوں اس کو میں نے دیکھا تھا

امید یاس بنی یاس پھر امید بنیاس اک نظر میں فریب نگاہ کتنا تھا

یہ سوز و ساز نہاں تھا وہ سوز و ساز عیاںوصال و ہجر میں بس فرق تھا تو اتنا تھا

شکست ساز چمن تھی بہار لالہ و گلخزاں مچلتی تھی غنچہ جہاں چٹکتا تھا

ہر ایک سانس ہے تجدید یاد ایامےگزر گیا وہ زمانہ جسے گزرنا تھا

نہ کوئی وعدہ نہ کوئی یقیں نہ کوئی امیدمگر ہمیں تو ترا انتظار کرنا تھا

کسی کے صبر نے بے صبر دیا سب کوفراقؔ نزع میں کروٹ کوئی بدلتا تھا

— فراق گورکھپوری