27 اشعار

فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے

Firaq Ek Nai Soorat Nikal To Sakti Hai

فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے

«فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 32 سیکنڈ ہے۔

فراقؔ اک نئی صورت نکل تو سکتی ہےبقول اس آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہے

ترے خیال کو کچھ چپ سی لگ گئی ورنہکہانیوں سے شب غم بہل تو سکتی ہے

عروس دہر چلے کھا کے ٹھوکریں لیکنقدم قدم پہ جوانی ابل تو سکتی ہے

پلٹ پڑے نہ کہیں اس نگاہ کا جادوکہ ڈوب کر یہ چھری کچھ اچھل تو سکتی ہے

بجھے ہوئے نہیں اتنے بجھے ہوئے دل بھیفسردگی میں طبیعت مچل تو سکتی ہے

اگر تو چاہے تو غم والے شادماں ہو جائیںنگاہ یار یہ حسرت نکل تو سکتی ہے

اب اتنی بند نہیں غم کدوں کی بھی راہیںہوائے کوچۂ محبوب چل تو سکتی ہے

کڑے ہیں کوس بہت منزل محبت کےملے نہ چھاؤں مگر دھوپ ڈھل تو سکتی ہے

حیات لو تہ‌ دامان مرگ دے اٹھیہوا کی راہ میں یہ شمع جل تو سکتی ہے

کچھ اور مصلحت‌ جذب عشق ہے ورنہکسی سے چھٹ کے طبیعت سنبھل تو سکتی ہے

ازل سے سوئی ہے تقدیر‌‌ عشق موت کی نینداگر جگائیے کروٹ بدل تو سکتی ہے

غم زمانہ و سوز نہاں کی آنچ تو دےاگر نہ ٹوٹے یہ زنجیر گل تو سکتی ہے

شریک شرم و حیا کچھ ہے بد گمانی‌ٔ حسننظر اٹھا یہ جھجک سی نکل تو سکتی ہے

کبھی وہ مل نہ سکے گی میں یہ نہیں کہتاوہ آنکھ آنکھ میں پڑ کر بدل تو سکتی ہے

بدلتا جائے غم روزگار کا مرکزیہ چال گردش ایام چل تو سکتی ہے

وہ بے نیاز سہی دل متاع ہیچ سہیمگر کسی کی جوانی مچل تو سکتی ہے

تری نگاہ سہارا نہ دے تو بات ہے اورکہ گرتے گرتے بھی دنیا سنبھل تو سکتی ہے

یہ زور و شور سلامت تری جوانی بھیبقول عشق کے سانچے میں ڈھل تو سکتی ہے

سنا ہے برف کے ٹکڑے ہیں دل حسینوں کےکچھ آنچ پا کے یہ چاندی پگھل تو سکتی ہے

ہنسی ہنسی میں لہو تھوکتے ہیں دل والےیہ سر زمین مگر لعل اگل تو سکتی ہے

جو تو نے ترک محبت کو اہل دل سے کہاہزار نرم ہو یہ بات کھل تو سکتی ہے

ارے وہ موت ہو یا زندگی محبت پرنہ کچھ سہی کف افسوس مل تو سکتی ہے

ہیں جس کے بل پہ کھڑے سرکشوں کو وہ دھرتیاگر کچل نہیں سکتی نگل تو سکتی ہے

ہوئی ہے گرم لہو پی کے عشق کی تلواریوں ہی جلائے جا یہ شاخ پھل تو سکتی ہے

گزر رہی ہے دبے پاؤں عشق کی دیویسبک روی سے جہاں کو مسل تو سکتی ہے

حیات سے نگہہ واپسیں ہے کچھ مانوسمرے خیال سے آنکھوں میں پل تو سکتی ہے

نہ بھولنا یہ ہے تاخیر حسن کی تاخیرفراقؔ آئی ہوئی موت ٹل تو سکتی ہے

— فراق گورکھپوری