13 اشعار

غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا

Gham tera jalwa-gah-e kaun-o-makaan hai ke jo tha

غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا

«غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھا» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

غم ترا جلوہ گہہ کون و مکاں ہے کہ جو تھایعنی انسان وہی شعلہ بجاں ہے کہ جو تھا

پھر وہی رنگ تکلم نگہ ناز میں ہےوہی انداز وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا

کب ہے انکار ترے لطف و کرم سے لیکنتو وہی دشمن دل دشمن جاں ہے کہ جو تھا

عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بہتوہی کم کم اثر سوز نہاں ہے کہ جو تھا

قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکنآج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا

نظر آ جاتے ہیں تم کو تو بہت نازک بالدل مرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا

جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھیپھر وہی مرحلۂ سود و زیاں ہے کہ جو تھا

حسن کو کھینچ تو لیتا ہے ابھی تک لیکنوہ اثر جذب محبت میں کہاں ہے کہ جو تھا

آج بھی صید گہ عشق میں حسن سفاکلئے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا

پھر تری چشم سخن سنج نے چھیڑی کوئی باتوہی جادو ہے وہی حسن بیاں ہے کہ جو تھا

پھر سر‌ میکدۂ عشق ہے اک بارش نورچھلکے جاموں سے چراغاں کا سماں ہے کہ جو تھا

پھر وہی خیر نگاہی ہے ترے جلووں سےوہی عالم ترا اے برق دماں ہے کہ جو تھا

آج بھی آگ دبی ہے دل انساں میں فراقؔآج بھی سینوں سے اٹھتا وہ دھواں ہے کہ جو تھا

— فراق گورکھپوری