14 اشعار

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

Haath aaye to wahi daaman-e-jaanan ho jaaye

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے

«ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 47 سیکنڈ ہے۔

ہاتھ آئے تو وہی دامن جاناں ہو جائےچھوٹ جائے تو وہی اپنا گریباں ہو جائے

عشق اب بھی ہے وہ محرم بیگانہ نماحسن یوں لاکھ چھپے لاکھ نمایاں ہو جائے

ہوش و غفلت سے بہت دور ہے کیفیت عشقاس کی ہر بے خبری منزل عرفاں ہو جائے

یاد آتی ہے جب اپنی تو تڑپ جاتا ہوںمیری ہستی ترا بھولا ہوا پیماں ہو جائے

آنکھ وہ ہے جو تری جلوہ گہہ ناز بنےدل وہی ہے جو سراپا ترا ارماں ہو جائے

پاک بازان محبت میں جو بے باکی ہےحسن گر اس کو سمجھ لے تو پشیماں ہو جائے

سہل ہو کر ہوئی دشوار محبت تیریاسے مشکل جو بنا لیں تو کچھ آساں ہو جائے

عشق پھر عشق ہے جس روپ میں جس بھیس میں ہوعشرت وصل بنے یا غم ہجراں ہو جائے

کچھ مداوا بھی ہو مجروح دلوں کا اے دوستمرہم زخم ترا جور‌ پشیماں ہو جائے

یہ بھی سچ ہے کوئی الفت میں پریشاں کیوں ہویہ بھی سچ ہے کوئی کیوں کر نہ پریشاں ہو جائے

عشق کو عرض تمنا میں بھی لاکھوں پس و پیشحسن کے واسطے انکار بھی آساں ہو جائے

جھلملاتی ہے سر بزم جہاں شمع خودیجو یہ بجھ جائے چراغ رہ عرفاں ہو جائے

سر شوریدہ دیا دشت و بیاباں بھی دیےیہ مری خوبیٔ قسمت کہ وہ زنداں ہو جائے

عقدۂ عشق عجب عقدۂ مہمل ہے فراقؔکبھی لاحل کبھی مشکل کبھی آساں ہو جائے

— فراق گورکھپوری