10 اشعار

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

Har nala tere dard se ab aur hi kuch hai

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے

«ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

ہر نالہ ترے درد سے اب اور ہی کچھ ہےہر نغمہ سر بزم طرب اور ہی کچھ ہے

ارباب وفا جان بھی دینے کو ہیں تیارہستی کا مگر حسن طلب اور ہی کچھ ہے

یہ کام نہ لے نالہ و فریاد و فغاں سےافلاک الٹ دینے کا ڈھب اور ہی کچھ ہے

اک سلسلۂ راز ہے جینا کہ ہو مرناجب اور ہی کچھ تھا مگر اب اور ہی کچھ ہے

کچھ مہر قیامت ہے نہ کچھ نار جہنمہشیار کہ وہ قہر و غضب اور ہی کچھ ہے

مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستیدنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

بیہودہ سری سجدے میں ہے جان کھپاناآئین محبت میں ادب اور ہی کچھ ہے

کیا حسن کے انداز تغافل کی شکایتپیمان وفا عشق کا جب اور ہی کچھ ہے

دنیا کو جگا دے جو عدم کو بھی سلا دےسنتے ہیں کہ وہ روز وہ شب اور ہی کچھ ہے

آنکھوں نے فراقؔ آج نہ پوچھو جو دکھایاجو کچھ نظر آتا ہے وہ سب اور ہی کچھ ہے

— فراق گورکھپوری