24 اشعار

جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے

Jaur-o-be-mehri-e-ighmaz pe kya rota hai

جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے

«جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

جور و بے مہری اغماض پہ کیا روتا ہےمہرباں بھی کوئی ہو جائے گا جلدی کیا ہے

کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہیجس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے

دل کا اک کام جو ہوتا نہیں اک مدت سےتم ذرا ہاتھ لگا دو تو ہوا رکھا ہے

نگۂ شوخ میں اور دل میں ہیں چوٹیں کیا کیاآج تک ہم نہ سمجھ پائے کہ جھگڑا کیا ہے

عشق سے توبہ بھی ہے حسن سے شکوے بھی ہزارکہیے تو حضرت دل آپ کا منشا کیا ہے

زینت دوش ترا نامۂ اعمال نہ ہوتیری دستار سے واعظ یہ لٹکتا کیا ہے

ہاں ابھی وقت کا آئینہ دکھائے کیا کیادیکھتے جاؤ زمانہ ابھی دیکھا کیا ہے

نہ یگانے ہیں نہ بیگانے تری محفل میںنہ کوئی غیر یہاں ہے نہ کوئی اپنا ہے

نگہ مست کو جنبش نہ ہوئی گو سر بزمکچھ تو اس جام لبا لب سے ابھی چھلکا ہے

رات دن پھرتی ہے پلکوں کے جو سائے سائےدل مرا اس نگۂ ناز کا دیوانا ہے

ہم جدائی سے بھی کچھ کام تو لے ہی لیں گےبے نیازانہ تعلق ہی چھٹا اچھا ہے

ان سے بڑھ چڑھ کے تو اے دوست ہیں یادیں ان کیناز و انداز و ادا میں تری رکھا کیا ہے

ایسی باتوں سے بدلتی ہے کہیں فطرت حسنجان بھی دے دے اگر کوئی تو کیا ہوتا ہے

تری آنکھوں کو بھی انکار تری زلف کو بھیکس نے یہ عشق کو دیوانہ بنا رکھا ہے

دل ترا جان تری آہ تری اشک ترےجو ہے اے دوست وہ تیرا ہے ہمارا کیا ہے

در دولت پہ دعائیں سی سنی ہیں میں نےدیکھیے آج فقیروں کا کدھر پھیرا ہے

تجھ کو ہو جائیں گے شیطان کے درشن واعظڈال کر منہ کو گریباں میں کبھی دیکھا ہے

ہم کہے دیتے ہیں چالوں میں نہ آؤ ان کیثروت و جاہ کے عشووں سے بچو دھوکا ہے

یہی گر آنکھ میں رہ جائے تو ہے چنگاریقطرۂ اشک جو بہہ جائے تو اک دریا ہے

زلف شب گوں کے سوا نرگس جادو کے سوادل کو کچھ اور بلاؤں نے بھی آ گھیرا ہے

لب اعجاز کی سوگند یہ جھنکار تھی کیاتیری خاموشی کے مانند ابھی کچھ ٹوٹا ہے

دار پر گاہ نظر گاہ سوئے شہر نگارکچھ سنیں ہم بھی تو اے عشق ارادہ کیا ہے

آ کہ غربت کدۂ دہر میں جی بہلائیںاے دل اس جلوہ گہہ ناز میں کیا رکھا ہے

زخم ہی زخم ہوں میں صبح کی مانند فراقؔرات بھر ہجر کی لذت سے مزا لوٹا ہے

— فراق گورکھپوری