10 اشعار

جنون کارگر ہے اور میں ہوں

Junoon kaargar hai aur main hoon

جنون کارگر ہے اور میں ہوں

«جنون کارگر ہے اور میں ہوں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 14 سیکنڈ ہے۔

جنون کارگر ہے اور میں ہوںحیات بے خبر ہے اور میں ہوں

مٹا کر دل نگاہ اولیں سےتقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

کہاں میں آ گیا اے زور پروازوبال بال و پر ہے اور میں ہوں

نگاہ اولیں سے ہو کے بربادتقاضائے دگر ہے اور میں ہوں

مبارک باد ایام اسیریغم دیوار و در ہے اور میں ہوں

تری جمعیتیں ہیں اور تو ہےحیات منتشر ہے اور میں ہوں

کوئی ہو سست پیماں بھی تو یوں ہویہ شام بے سحر ہے اور میں ہوں

نگاہ بے محابا تیرے صدقےکئی ٹکڑے جگر ہے اور میں ہوں

ٹھکانا ہے کچھ اس عذر ستم کاتری نیچی نظر ہے اور میں ہوں

فراقؔ اک ایک حسرت مٹ رہی ہےیہ ماتم رات بھر ہے اور میں ہوں

— فراق گورکھپوری