11 اشعار

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں

Kami na ki tere wahshi ne khaak udaane mein

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں

«کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میںجنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں

فراقؔ دوڑ گئی روح سی زمانے میںکہاں کا درد بھرا تھا مرے فسانے میں

جنوں سے بھول ہوئی دل پہ چوٹ کھانے میںفراقؔ دیر ابھی تھی بہار آنے میں

وہ کوئی رنگ ہے جو اڑ نہ جائے اے گل تروہ کوئی بو ہے جو رسوا نہ ہو زمانے میں

وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے نکلےوہ کوئی حسن ہے جھجکے جو رنگ لانے میں

یہ گل کھلے ہیں کہ چوٹیں جگر کی ابھری ہیںنہاں بہار تھی بلبل ترے ترانے میں

بیان شمع ہے حاصل یہی ہے جلنے کافنا کی کیفیتیں دیکھ جھلملانے میں

کسی کی حالت دل سن کے اٹھ گئیں آنکھیںکہ جان پڑ گئی حسرت بھرے فسانے میں

اسی کی شرح ہے یہ اٹھتے درد کا عالمجو داستاں تھی نہاں تیرے آنکھ اٹھانے میں

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوستوہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

ہمیں ہیں گل ہمیں بلبل ہمیں ہوائے چمنفراقؔ خواب یہ دیکھا ہے قید خانے میں

— فراق گورکھپوری