18 اشعار

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

Kisi ka yoon to hua kaun umr bhar phir bhi

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

«کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھییہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

ہزار بار زمانہ ادھر سے گزرا ہےنئی نئی سی ہے کچھ تیری رہ گزر پھر بھی

کہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا نہ دیکھ ادھرکہ درد درد ہے پھر بھی نظر نظر پھر بھی

خوشا اشارۂ پیہم زہے سکوت نظردراز ہو کے فسانہ ہے مختصر پھر بھی

جھپک رہی ہیں زمان و مکاں کی بھی آنکھیںمگر ہے قافلہ آمادۂ سفر پھر بھی

شب فراق سے آگے ہے آج میری نظرکہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھر بھی

کہیں یہی تو نہیں کاشف حیات و مماتیہ حسن و عشق بظاہر ہیں بے خبر پھر بھی

پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھاوہ کوچہ روکش جنت ہو گھر ہے گھر پھر بھی

لٹا ہوا چمن عشق ہے نگاہوں کودکھا گیا وہی کیا کیا گل و ثمر پھر بھی

خراب ہو کے بھی سوچا کیے ترے مہجوریہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھر بھی

ہو بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹیوہ کیمیا ہی سہی رہ گئی کسر پھر بھی

لپٹ گیا ترا دیوانہ گرچہ منزل سےاڑی اڑی سی ہے یہ خاک رہ گزر پھر بھی

تری نگاہ سے بچنے میں عمر گزری ہےاتر گیا رگ جاں میں یہ نیشتر پھر بھی

غم فراق کے کشتوں کا حشر کیا ہوگایہ شام ہجر تو ہو جائے گی سحر پھر بھی

فنا بھی ہو کے گراں باریٔ حیات نہ پوچھاٹھائے اٹھ نہیں سکتا یہ درد سر پھر بھی

ستم کے رنگ ہیں ہر التفات پنہاں میںکرم نما ہیں ترے جور سر بسر پھر بھی

خطا معاف ترا عفو بھی ہے مثل سزاتری سزا میں ہے اک شان در گزر پھر بھی

اگرچہ بے خودیٔ عشق کو زمانہ ہوافراقؔ کرتی رہی کام وہ نظر پھر بھی

— فراق گورکھپوری