11 اشعار

کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے

Koi payam-e-mohabbat lab-e-eejaz to de

کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے

«کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔

کوئی پیغام محبت لب اعجاز تو دےموت کی آنکھ بھی کھل جائے گی آواز تو دے

مقصد عشق ہم آہنگیٔ جزو و کل ہےدرد ہی درد سہی دل بوئے دم ساز تو دے

چشم مخمور کے عنوان نظر کچھ تو کھلیںدل رنجور دھڑکنے کا کچھ انداز تو دے

اک ذرا ہو نشۂ حسن میں انداز خماراک جھلک عشق کے انجام کی آغاز تو دے

جو چھپائے نہ چھپے اور بتائے نہ بنےدل عاشق کو ان آنکھوں سے کوئی راز تو دے

منتظر اتنی کبھی تھی نہ فضائے آفاقچھیڑنے ہی کو ہوں پر درد غزل ساز تو دے

ہم اسیران قفس آگ لگا سکتے ہیںفرصت نغمہ کبھی حسرت پرواز تو دے

عشق اک بار مشیت کو بدل سکتا ہےعندیہ اپنا مگر کچھ نگہ ناز تو دے

قرب و دیدار تو معلوم کسی کا پھر بھیکچھ پتہ سا فلک تفرقہ پرداز تو دے

منزلیں گرد کی مانند اڑی جاتی ہیںابلق دہر کچھ انداز تگ و تاز تو دے

کان سے ہم تو فراقؔ آنکھ کا لیتے ہیں کامآج چھپ کر کوئی آواز پر آواز تو دے

— فراق گورکھپوری