15 اشعار

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

Kuchh ishaare the jinhein duniya samajh baithe the hum

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

«کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہم» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 49 سیکنڈ ہے۔

کچھ اشارے تھے جنہیں دنیا سمجھ بیٹھے تھے ہماس نگاہ آشنا کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

رفتہ رفتہ غیر اپنی ہی نظر میں ہو گئےواہ ری غفلت تجھے اپنا سمجھ بیٹھے تھے ہم

ہوش کی توفیق بھی کب اہل دل کو ہو سکیعشق میں اپنے کو دیوانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم

پردۂ آزردگی میں تھی وہ جان التفاتجس ادا کو رنجش بے جا سمجھ بیٹھے تھے ہم

کیا کہیں الفت میں راز بے حسی کیوں کر کھلاہر نظر کو تیری درد افزا سمجھ بیٹھے تھے ہم

بے نیازی کو تری پایا سراسر سوز و دردتجھ کو اک دنیا سے بیگانہ سمجھ بیٹھے تھے ہم

انقلاب پے بہ پے ہر گردش و ہر دور میںاس زمین و آسماں کو کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

بھول بیٹھی وہ نگاہ ناز عہد دوستیاس کو بھی اپنی طبیعت کا سمجھ بیٹھے تھے ہم

صاف الگ ہم کو جنون عاشقی نے کر دیاخود کو تیرے درد کا پردا سمجھ بیٹھے تھے ہم

کان بجتے ہیں محبت کے سکوت ناز کوداستاں کا ختم ہو جانا سمجھ بیٹھے تھے ہم

باتوں باتوں میں پیام مرگ بھی آ ہی گیاان نگاہوں کو حیات افزا سمجھ بیٹھے تھے ہم

اب نہیں تاب سپاس حسن اس دل کو جسےبے قرار شکوۂ بیجا سمجھ بیٹھے تھے ہم

ایک دنیا درد کی تصویر نکلی عشق کوکوہکن اور قیس کا قصہ سمجھ بیٹھے تھے ہم

رفتہ رفتہ عشق مانوس جہاں ہوتا چلاخود کو تیرے ہجر میں تنہا سمجھ بیٹھے تھے ہم

حسن کو اک حسن ہی سمجھے نہیں اور اے فراقؔمہرباں نا مہرباں کیا کیا سمجھ بیٹھے تھے ہم

— فراق گورکھپوری