12 اشعار

کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے

Kuchh na kuchh ishq ki taseer ka iqrar to hai

کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے

«کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہے» فراق گورکھپوری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 38 سیکنڈ ہے۔

کچھ نہ کچھ عشق کی تاثیر کا اقرار تو ہےاس کا الزام تغافل پہ کچھ انکار تو ہے

ہر فریب غم دنیا سے خبردار تو ہےتیرا دیوانہ کسی کام میں ہشیار تو ہے

دیکھ لیتے ہیں سبھی کچھ ترے مشتاق جمالخیر دیدار نہ ہو حسرت دیدار تو ہے

معرکے سر ہوں اسی برق نظر سے اے حسنیہ چمکتی ہوئی چلتی ہوئی تلوار تو ہے

سر پٹکنے کو پٹکتا ہے مگر رک رک کرتیرے وحشی کو خیال در و دیوار تو ہے

عشق کا شکوۂ بے جا بھی نہ بے کار گیانہ سہی جور مگر جور کا اقرار تو ہے

تجھ سے ہمت تو پڑی عشق کو کچھ کہنے کیخیر شکوہ نہ سہی شکر کا اظہار تو ہے

اس میں بھی رابطۂ خاص کی ملتی ہے جھلکخیر اقرار محبت نہ ہو انکار تو ہے

کیوں جھپک جاتی ہے رہ رہ کے تری برق نگاہیہ جھجک کس لئے اک کشتۂ دیدار تو ہے

کئی عنوان ہیں ممنون کرم کرنے کےعشق میں کچھ نہ سہی زندگی بیکار تو ہے

سحر و شام سر انجمن ناز نہ ہوجلوۂ حسن تو ہے عشق سیہ کار تو ہے

چونک اٹھتے ہیں فراقؔ آتے ہی اس شوخ کا نامکچھ سراسیمگیٔ عشق کا اقرار تو ہے

— فراق گورکھپوری